بھٹکل:12/مارچ (ایس او نیوز)آج بھٹکل میں ریت کی قلت کا جو مسئلہ درپیش ہے، اس سے نہ صرف عوام پریشان ہیں، بلکہ ریت کی قلت سے ترقیاتی کام نہیں ہورہے ہیں، تعمیراتی کام رُکنے سے مزدوربھی پریشان ہیں۔ ریاست میں ریت کی قلت کا جو مسئلہ پیدا ہو ا ہے، ایسا مسئلہ ریاست کی تاریخ میں اس سے پہلے کبھی پیش نہیں آیا۔ یہ سب حکومت کی ناکامی کا نتیجہ ہے۔ ان باتوں کا الزامسابق رکن اسمبلی جے ڈی نائک نے لگایا۔
وہ شہر کے یمیس ہوٹل میں بی جے پی پارٹی کی طرف سے منعقدہ پریس کانفرنس میں اخبارنویسوں سے بات کررہے تھے۔ انہوں نے ریت کی قلت سےپیدا شدہ مسائل کاتذکرہ کرتے ہوئے اپنی پرانی پارٹی کی قیادت والی ریاستی سرکار کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا کہ ریت کی پالیسی کو تشکیل دینے میں سرکار بر ی طرح ناکام ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ چک پوسٹ پر ہفتہ لےکر ریت سپلائی کی جارہی ہے، بھٹکل میں ریت مافیا ہے، غیر قانونی طورپر رقم جمع کی جارہی ہے۔ انہوں نے مقامی رکن اسمبلی کے متعلق کہاکہ وہ صرف بھروسے کے سہارے عوام کو بے وقوف بنارہے ہیں، افسران پر دباؤ ڈال کر بل ادا کرائے جارہے ہیں ۔ جو بھی ترقیاتی کام ہورہے ہیں وہ معیاری نہیں ہورہے ہیں ، اس لئے کارکنا ن پر زور دیا کہ وہ معیاری کاموں کے لئے جد وجہد کریں۔
سابق وزیر شیوانندنائک نے پریس کانفرنس میں کہاکہ بی جےپی کو اترپردیش میں بہت بڑی اکثریت حاصل ہوئی ہے، جس کے اثرات لازماً کرناٹک پر بھی ہونگے، انہوں نے پورے وثوق کے ساتھ کہا کہ یڈیورپا اگلے وزیر اعلیٰ بننا طئے ہے، بھٹکل میں رکن اسمبلی کی زور زبردستی ،بداننظامی کی حد پار کررہی ہے، وہ رشوت خوری میں ڈوب چکے ہیں۔ انہوں نے اگلے ودھان سبھا کے دوران بی جے پی امیدوار کے متعلق کہاکہ امیدوار کا فیصلہ اعلیٰ کمان طئے کرے گی۔انہوں نے کسی اختلاف کو ہوا نہ دیتے ہوئے اتحاد کا مظاہرہ کرنے کی کارکنان سے اپیل کی۔
بھٹکل بی جے پی کے صدر راجیش نائک نے کہاکہ بھٹکل کے ساگر روڈ اور مرڈیشور کی ترقی کے لئے مرکز سے امداد منظوری ہوئی ہے، لیکن رکن اسمبلی خود کی کوششوں کا نتیجہ بتاتے گھوم رہے ہیں۔ گوندنائک، کرشنانائک، ایشور نائک، سنیل نائک، سویتا گونڈا، دینیش نائک، پاشورناتھ جین، سبرائے دیواڑیگا، شیوانی شانتارام ، سنتوش نائک، یوتھ مورچہ صدر لکشمن نائک وغیرہ موجود تھے۔